نئی دہلی،09 اکتوبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) ملک کے سب سے بڑے بینک ایس بی آئی میں موجودہ مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران کل 5,555.48کروڑ روپے کی بینکاری فراڈ کے1,329 کیس سامنے آئے ہیں۔ مدھیہ پردیش کے نیمچ رہائشی آر ٹی آئی کارکن چندرشیکھر گوڑ نے منگل کو بتایا کہ حق اطلاعات کے تحت انہیں یہ معلومات ملی ہے۔ انہوں نے اپنی آرٹی آئی عرضی پر بھارتی اسٹیٹ بینک (ایس بی آئی) کی جانب سے بھیجے گئے جواب کے حوالے سے بتایا کہ اس مالی سال کی پہلی سہ ماہی (اپریل۔جون) میں بینک میں کل723.06 کروڑ روپے کی بینکاری فراڈ کے 669 معاملے سامنے آ ئے ہیں ۔ ایس بی آئی میں جاری مالی سال کی دوسری سہ ماہی (جولائی۔ستمبر) میں کل4832.42کروڑ روپے کی بینکاری فراڈ سے متعلق 660 معاملات روشنی میں آئے ہیں۔ گوڑ نے اپنی آرٹی آئی عرضی میں ایس بی آئی سے یہ بھی پوچھا تھا کہ اس مدت کے دوران بینکاری فراڈ سے خود بینک کو کتنا مالی نقصان ہوا۔ اس پر بینک نے جواب دیا کہ اس نقصان کی رقم کی تخمینہ طے نہیں کیا جا سکتا۔ آر ٹی آئی کارکن نے ایس بی آئی سے یہ بھی جاننا چاہا تھا کہ اس مدت میں اس کے کتنے کسٹمر بینکنگ فراڈ کا شکار ہوئے اور اس کی وجہ سے انہیں کتنی رقم گنوانی پڑی۔ تاہم عوامی شعبہ کے بینک نے متعلقہ سوال پر کہا کہ چونکہ اس طرح کی معلومات اس کی طرف سے عام طور پر اکٹھی نہیں کی جاتی۔ لہذا حق اطلاعات ایکٹ 2005 کے منسلک دفعات کے تحت اسے اس شق سے چھوٹ ہے ۔ غور طلب ہے کہ نیرو مودی کے پی این بی بینک گھوٹالہ اور وجے مالیا کا بینکوں سے قرض لے کر ملک چھوڑ کر بھاگ جانے سمیت کئی بینکاری گھوٹالے اب تک سامنے آ چکے ہیں۔ اس کی وجہ سے مودی حکومت بیک فٹ پر ہے۔